فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza
SKU: 91056481586

فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza

Sale price$360.00 Regular price$400.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 9 - Jul 14

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza: : " " " ( )" (Daniel Jones) " " " " ( ) " " " " " " " " 1995 2022 (Samuel Johnson) " " 2002 '' '' '' '' '' " " 2017 (Noam Chomsky) " "

فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ:

اردو لغت نویسی میں تنقیدی شعور کی بازیافت اور لسانی معیارات کا تحفظ

تحریر: شیخ عبدالرشید

اردو زبان کے لسانی تشخص، صوتیاتی نظم اور تہذیبی ارتقاء میں لغت نویسی کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی زندہ زبان کی علمی بقا کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے لغوی اور صوتی اصول کس قدر مستند اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اس تناظر میں شان الحق حقی کی مرتب کردہ "فرہنگِ تلفظ" ایک ایسی دستاویز ہے جسے اردو کی مستند لغت نویسی میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ حقی صاحب نے بائیس جلدوں پر مشتمل "اردو لغت (تاریخی اصول پر)" کے صوتی نظام اور علامات میں موجود اسقام کو دور کرتے ہوئے ایک جدید، مربوط اور عملی صوتی ابجد پیش کی، جو اپنے عہد کی ایک بڑی لسانی دریافت تھی۔ تاہم، زبان کی تدوین ایک مسلسل عمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تجدید اور تنقیدی بصیرت کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ مشہور ماہرِ لسانیات ڈینیل جونز (Daniel Jones) نے بجا طور پر کہا تھا کہ "لغت زبان کے معیار کی محافظ اور صوتیات اس کی روح ہے"۔ اسی علمی تقاضے کے تحت گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہْ اردو کے سابق پروفیسر محمد عمر خاں کی کتاب "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ"، جسے فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا ہے، اردو لغت نویسی کی تاریخ میں ایک وقیع باب کا اضافہ ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ کالج منٹگمری/ ساہیوال کے ماضی کی علمی و ادبی وجاہت کی نشاة ثانیہ کی طرف اہم قدم بھی ہے۔

یہ کتاب محض ایک فرہنگ پر تبصرہ نہیں بلکہ اردو کے لغوی و لسانی معیار کو پرکھنے کا ایک معروضی اور کڑا علمی ذریعہ ہے۔ اس علمی کاوش پر کتاب کے سرورق (بیک فلیپ) پر حافظ صفوان محمد نے انتہائی بصیرت افروز رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کتاب اس بات کی غماز ہے کہ رانا محمد عمر خاں نے یہ کام کرنے میں اپنی آنکھوں کا بہت تیل نکالا ہے۔ جناب حقی اسے دیکھتے تو انھیں اپنا فرہنگِ تلفظ کا کھویا ہوا نسخہ مجسم صورت میں دیکھ کر بے حساب خوشی ہوتی۔ پروفیسر رفیق ظہیر صاحب نے اِس کتاب پر عالمانہ مقدمہ لکھا ہے اور اِس کاوش کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے اس کام کی بنیاد گزاری کی مختلف سطحوں سے قاری کو روشناس کرایا ہے۔

بلاشبہ پروفیسر محمد عمر خان نے "فرہنگِ تلفظ" کے پیچیدہ لسانی مباحث کو جس طرح سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر پرکھا ہے، وہ لغت نویسی کی تاریخ میں ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقی صاحب کی "فرہنگِ تلفظ" کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے اردو کے صوتیاتی ڈھانچے کو سائنسی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ تاہم، اس علمی سفر میں پہلا ایڈیشن چھپنے کے بعد، حقی صاحب کی اپنی اصلاحات اور پروف کی اغلاط کی درستیاں کاتب پورے طور پر نہ لگا سکا۔ اس تشنہ رفو کام نے اردو لغت نویسی کے معیار کو ایک طویل عرصے تک ایک خلائی کیفیت میں مبتلا رکھا، جس سے زبان کے صوتیاتی مزاج کو جزوی نقصان پہنچا۔ چنانچہ اس علمی خلا کو پر کرنے کے لیے پروفیسر رانا محمد عمر خاں نے جس وسعتِ قلبی اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ داد ہے۔ رانا صاحب محض ایک محقق نہیں بلکہ لغت نویسی کے نباض ہیں۔ ان کی تحقیقی کاوش اور علمی بصیرت کا اعتراف ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی کے "لغاتِ روزمرہ" کے محاکمے سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ" میں انہوں نے حقی صاحب کی فرہنگ کے مختلف ایڈیشنز، خاص طور پر 1995ء سے 2022ء تک کے اشاعتی سفر کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ جدید لغت نویسی کے اصولوں کے مطابق، جیسا کہ سیموئیل جانسن (Samuel Johnson) نے کہا تھا کہ "لغات کا مقصد زبان کی اصلاح اور اس کی درستگی ہے"، رانا صاحب کی یہ کاوش اسی زریں اصول کی عملی تعبیر ہے۔ لغت نویسی محض ایک ادبی ذوق نہیں بلکہ ایک انتہائی دقیق اور تکنیکی عمل ہے؛ ہمارے لغت نگاروں نے اس دور میں جب جدید صوتی آلات اور سافٹ ویئرز کا وجود نہ تھا، اپنے محدود وسائل کے ساتھ جو جانفشانی کی، وہ آج کے ڈیجیٹل دور کے محققین کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ تکنیکی مہارت کا فقدان ہی تھا جس نے کئی مقامات پر لغت کو اسقام سے دوچار کیا۔

کتاب کا ایک اہم تنقیدی پہلو 2002ء کے ایڈیشن کے جائزے میں سامنے آتا ہے، جہاں مصنف نے سید رضوان علی ندوی کے اعتراضات کے تناظر میں 'کنج'، 'اباق'، 'املاص'، 'پکٹ'، اور 'تخبیر' جیسے الفاظ کے اعراب اور معانی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ رانا صاحب نے نشاندہی کی ہے کہ لغت نگاروں نے اکثر مقامات پر تاریخی اصولوں کے بجائے سرسری رویہ اپنایا۔ مثال کے طور پر، ارسطاطالیس کی پیدائش و وفات کے سنین کے اندراج میں جو تضاد پایا جاتا ہے، وہ انگریزی اور اردو کے رسم الخط کے دائیں اور بائیں جانب سے لکھنے کے اصولوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ قبل مسیح کی تاریخوں کو درج کرنے کا مروجہ طریقہ کار اردو لغت نویسی میں علمی غلطیوں کا باعث بنا ہے، جسے فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔

مبصرین کی فکر اس مقام پر رانا عمرصاحب کے کام سے ہم آہنگ نظر آتی ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ "لسانی تحقیق میں معروضی مطالعہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں حقیقت تک لے جاتا ہے"۔ محمد عمر صاحب نے 2017ء کے نستعلیق ایڈیشن میں صوتی علامات، جیسے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے فقدان کو زبان کے صوتی حسن کے لیے ایک بڑی کمی قرار دیا ہے۔ وہ صرف غلطیوں کی نشان دہی نہیں کرتے بلکہ ان کی تاریخی اور لسانی جڑیں بھی تلاش کرتے ہیں۔ سید رضوان علی ندوی اور حقی صاحب کے درمیان ہونے والی علمی بحث کا جو تقابلی تجزیہ انہوں نے پیش کیا ہے، وہ اردو تحقیق میں مکالمے کی ایک صحت مند روایت کو فروغ دیتا ہے۔ نوم چومسکی (Noam Chomsky) کے مطابق، "زبان کی ساخت کا مطالعہ اس کے گہرے صوتی و نفسیاتی نظام سے وابستہ ہے"۔ رانا صاحب نے اسی اصول کے تحت حقی صاحب کی فرہنگ کی لسانی ساخت کو نئے سرے سے پرکھا ہے۔

یہ کتاب محض ایک تحقیقی کاوش نہیں، بلکہ یہ اردو لغت نویسی کے لیے ایک ایسا اصلاحی چارٹر ہے جو آنے والے محققین کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ اردو کی بین الاقوامی حیثیت کا تقاضا ہے کہ ہماری لغات معیاری اور مستند ہوں۔ اگر ہم نے اپنی لغات کے صوتی نظام اور درستگی پر سمجھوتہ کیا، تو عالمی سطح پر تحقیق کرنے والے سکالرز ہماری زبان کے ذخیرہ الفاظ اور اس کی باریکیوں پر کیسے اعتماد کر سکیں گے؟ لہذا، عمر خاں صاحب کا کام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ اردو کے علمی تشخص کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ہے۔ رانا صاحب نے اس کام کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ لغت محض الفاظ کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک زندہ لسانی روایت کی امین ہوتی ہے۔ اس کام کے معیار اور اہمیت کا جائزہ لے کر بجا طور پر زور دے کر کہا جا سکتا ہے کہ ایسی تحقیقی کاوشوں کو نصابی اور تحقیقی سطح پر شامل کیا جائے تاکہ طلبہ لغت نویسی کے بنیادی تقاضوں سے واقف ہو سکیں۔

یہ تحقیقی سفر لسانیات کی تاریخ میں اپنا مقام خود متعین کرے گا، کیونکہ یہ کام جذباتی تسکین سے بالا تر ہو کر ٹھوس علمی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کتاب کا ہر صفحہ مصنف کی کڑی محنت، مطالعے کی وسعت اور لسانی باریک بینی کا آئینہ دار ہے۔ رانا محمد عمر خاں نے جس طرح اِس لغت کی تدوینی و لسانی غلطیوں کے ازالے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کیا ہے، وہ نہ صرف تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے بلکہ آنے والے محققین کے لیے ایک تنبیہہ بھی ہے کہ زبان کی تدوین میں ذرا سی غفلت کتنی بڑی قیمت ادا کر سکتی ہے۔ رانا صاحب کا یہ کام آنے والے ادوار میں اردو لسانیات کا ایک بنیادی اور ناگزیر حوالہ ثابت ہوگا۔ یہ تحریر بلاشبہ اردو کے اس علمی تشخص کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے جو ہماری تہذیب کی پہچان ہے۔ آخر میں، اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ ایسی سنجیدہ علمی اور لسانی کاوشیں ہی زبان کو مستحکم کرتی ہیں اور اسے ارتقا کی شاہراہ پر گامزن رکھتی ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی لغات کی اصلاح نہ کی تو کل کی نسلیں صوتی اور لغوی اعتبار سے ایک ایسے اندھیرے میں ہوں گی جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔ لہٰذا رانا محمد عمر خاں کی یہ کاوش نہ صرف ایک علمی کارنامہ ہے بلکہ ایک قومی لسانی فریضہ بھی ہے جسے ہر اہلِ قلم کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 91056481586

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.3 ★★★★★
Based on 1116 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
B
Verified Purchase
Barefoot Scientist
Lake Worth, US
★★★★★ 5
Holy Grail Micellar Water
Size: 13.52 Fl Oz
This is my holy grail micellar water! My skin can be sensitive and reactive at times, and this product has never let me down. It has never irritated my eyes or skin. I use it to double cleanse, although sometimes I use only this micellar water followed by a quick splash of water. It does not leave a film and leaves my skin feeling nourished and happy.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 24, 2025
S
Verified Purchase
SweetWordsx3
Charlottesville, US
★★★★★ 4
but takes quiet a good amount of cotton balls
Size: 6.8 Fl Oz (Pack of 1)
It removes makeup alright, but takes quiet a good amount of cotton balls. Haven't try it on waterproof makeup yet, but it does make make skin feels clean and isn't harsh. Edit: Tried it for a couple of days, and here's the verdict: It can remove makeup, but you'll need a good amount of it on a cotton pad, and likely you'll use more than one. It feels nice while it is on the face, though it clean best with light makeup, and it takes me a couple of cotton balls to clean eyeliner and mascara. I needed to use moisturizer after it, because it make my skin feels dry. It doesn't take long, and definitely save more time than washing with soap and water, but it's a little bit of a hassle, too. Oh well, at least it's very convenient.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 1, 2016
A
Verified Purchase
absolut_beethoven
Boise, US
★★★★★ 5
THE Best facial toner period!!!
Size: 6.8 Fl Oz (Pack of 1)
This review is for the 200ml bottle I am one of those few but very fortunate people that isn't allergic to anything, or sensitive to most soaps, cleansers and toners. Unfortunately now that I'm in my fifties my face isn't as fuss free as it once was and soaps and cleansers that were once okay, are now either too harsh for my skin or dry it out. Worse than that are those products that irritate my eyes, especially if they're meant to be used around that area. What gives with these manufacturers whose products are supposed to cleanse your face, but irritate your eyes? Of course sooner or later you're going to get some in your eyes regardless of how careful you are. Which brings me to this amazingly excellent cleanser. A more accurate description of this cleanser would a "cleansing toner" as it's not really a face wash i.e. it doesn't soap or foam up like other facial cleansers. As I'm a guy and don't wear any make up I can't vouch for its efficacy in that department. But I can vouch most enthusiastically for its ability to strip your face clean of excess oil and grime picked up during the day without leaving your face feeling dry or tight. I do use it around both my upper and lower eyelids with zero eye irritation at all. It leaves my face feeling clean and refreshed with only the slightest hint of a clean refreshing smell, so it won't interfere with your perfume or cologne. I use it twice a day as an in between facial cleanser/refresher to eliminate that grimy oily look between my daily showers. Highly recommended for doing an excellent job without irritating or drying out my skin. Try it out yourself as this could be the only skin toner that you'll ever need, and it's reasonably priced too. :)
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 3, 2011
E
Verified Purchase
Erika and Huy
Boise, US
★★★★★ 5
Girlfriend approved !
Size: 13.52 Fl Oz
Works amazingly well, soothes skin, is super gentle, and removes makeup with ease
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 8, 2026
C
Verified Purchase
Chrissy
Grantham, US
★★★★★ 5
Holy grail for type 1 rosacea
Size: 1 Ounce (Pack of 1), Size: 1 Ounce (Pack of 1)
This has saved my face. I have type 1 rosacea and my skin has been pissed off for the last eight months straight. I have tried everything including compounded prescription creams that only made my face flare worse. I deal with a lot of flushing and burning that can be triggered by the slightest bit in temperature rise or just seemingly at random, especially at night. Since using this product my skin has calmed down drastically. It's only been a couple days, but so far I'm thinking this is a holy grail product for me. I also purchased the Glenser because the oil cleanser that I was using had fragrance and alcohol, which can be extremely irritating for rosacea. Since switching to Prequel I can honestly say my skin is so much happier and less reactive. Worth a shot if your a rosy girl like me.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 27, 2026

recommand products